بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

اعتکاف کی نیت کا طریقہ

سوال

اعتکاف کی نیت کیسے کریں؟

جواب

واضح رہے کہ رمضان المبارک کے آخری عشرے کا  اعتکاف سنّتِ مؤکدہ علی الکفایہ ہے،یعنی اگراس عشرے میں ایک یا  چند افراد محلّے کی مسجد میں  اعتکاف کی نیت سے اقامت کرے تو  باقی  اہلِ محلہ کے ذمے ضروری  نہیں رہےگا کہ وہ بھی اعتکاف کریں،پس  اس اعتکاف  کےلیے مسجداور نیت  شرط و ضروری ہے،اس کےبغیر اعتکاف درست نہیں ہوگا،اور نیت کےلیےالفاظ کازبان سے ادا کرنا ضروری نہیں ہے،بلکہ اس عشرے میں  اعتکاف کےارادے سے مسجد میں داخل ہوجانا بھی کافی ہے،البتہ زبان سے بھی نیت کےالفاظ کہہ لےتو بہتر ہے،مثلاً بیسویں تاریخ کو غروبِ آفتاب سے قبل جب مسجد میں  داخل ہوتو اس وقت یہ کہے کہ "میں دس دن کے مسنون  اعتکاف کی نیت کرتا ہوں"۔

اور اگر نفلی اعتکاف ہے تو مسجد میں داخل ہوتے وقت یہ نیت کرے کہ "میں جب تک مسجد میں ہوں میرے اعتکاف کی نیت ہے۔"

مجمع الانھر فی شرح ملتقی الابحر میں ہے:

"فالركن اللبث، والكون في المسجد والنية شرطان للصحة."

(کتاب الصوم،باب الاعتکاف،ج:1،ص:256،ط:دار احیاء التراث العربی بیروت)

فتاوی عالمگیری میں ہے:

"(وأما شروطه) فمنها النية حتى لو اعتكف بلا نية لا يجوز بالإجماع كذا في معراج الدراية."

(کتاب الصوم،الباب السابع في الاعتكاف،ج:1،ص:211،ط:المطبعۃ الکبری الامیریۃ بولاق مصر)

و فيه أيضاً:

"والنية معرفته بقلبه أن يصوم كذا في الخلاصة، ومحيط السرخسي. والسنة أن يتلفظ بها كذا في النهر الفائق."

(کتاب الصوم،الباب الأول في تعريفه وتقسيمه وسببه ووقته وشرطه،ج:1،ص:195،ط:المطبعۃ الکبری الامیریۃ بولاق مصر)

فقط و الله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144509102153
تاریخ31-03-2024

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں