بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

اعتکاف سے ایک دن پہلے روزہ نہیں رکھ سکا تو اعتکاف کرنا درست ہوگا ؟

سوال

اگر کوئی شخص کسی وجہ سے  بیسواں روزہ نہ رکھ سکا،  یااس  نے روزہ توڑدیا ہو تو کیا وہ مسنون اعتکاف میں  بیٹھ سکتا ہے یا نہیں؟  یعنی اعتکاف کے لیے بیسواں روزہ بھی شرط ہے ؟

جواب

 اگر کوئی شخص  کسی عذر کی وجہ سے 20 رمضان کو روزہ نہ رکھ سکے تو اس دن شام سے اعتکاف شروع کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے ، یعنی سنت اعتکاف درست ہونے کے لیے بیسواں روزہ شرط نہیں ہے، تاہم  سنت اعتکاف درست ہونے کے لیے اگلے تمام روزے رکھنا لازم ہوگا،  ورنہ   مسنون اعتکاف نہیں ہوگا۔

فتاوی شامی میں ہے:

"قلت: و مقتضى ذلك أن الصوم شرط أيضًا في الاعتكاف المسنون؛ لأنه مقدر بالعشر الأخير حتى لو اعتكفه بلا صوم لمرض أو سفر، ينبغي أن لايصح عنه بل يكون نفلًا فلاتحصل به إقامة سنة الكفاية."

(کتاب الصوم، باب الاعتکاف، ج:2، ص:442، ط: دار الفکر)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144509102130
تاریخ31-03-2024

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں