بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

9 جُمادى الأولى 1448ھ 21 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

صلوۃ تسبیح میں کلمے کو مخصوص تعداد سے غلطی سے زیادہ پڑھ لیا جائے

سوال

اگر صلوۃ تسبیح میں کلمے کو مخصوص تعداد سے غلطی سے زیادہ پڑھ لیا جائے ،مثلا رکوع میں 10 کے بجائے12 یا 13 مرتبہ پڑھ لیا ،تو اس سے نماز میں فرق تو نہیں آئے گا ؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر غلطی سے صلاۃ التسبیح میں  کلمہ کو مخصوص تعداد سےزیادہ پڑھ لیا جاۓ،تونماز فاسد نہ ہوگی ،بلکہ نماز ہوجاۓگی ،تاہم صلاۃ التسبیح  میں  خصوصیت کےساتھ پوری  توجہ مرکوز کی جاۓ،تاکہ  منصوصی  عددمیں کمی  بیشی نہ ہو۔

فتاوی شامی میں ہے: 

"لو زاد على العدد، قيل يكره لأنه سوء أدب، وأيد بأنه كدواء زيد على قانونه أو مفتاح زيد على أسنانه، وقيل لا بل يحصل له الثواب المخصوص مع الزيادة، بل قيل لا يحل اعتقاد الكراهة، لقوله تعالى - {من جاء بالحسنة فله عشر أمثالها} والأوجه إن زاد لنحو شك عذر أو لتعبد فلا لاستدراكه على الشارع وهو ممنوع".

(كتاب الصلاة، مطلب فيما لو زاد ‌على ‌العدد ‌الوارد في التسبيح عقب الصلاة، ج1، ص531، ط: ایچ ایم سعید)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144509102119
تاریخ31-03-2024

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں