بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

عورتوں کے اعتکاف کا حکم اور اس کا ثبوت

سوال

عورتوں کے اعتکاف کا حکم اور اس کا ثبوت کیا ہے؟

جواب

عورتوں کے لیے بھی اعتکاف کرنا سنت ہے اور ثواب کا باعث ہےاور اس کا ثبوت مختلف احادیث سے ہے،جیسا کہ صحیح البخاری میں ہے :

"عن عائشة رضي الله عنها، زوج النبي صلى الله عليه وسلم: أن النبي صلى الله عليه وسلم كان يعتكف العشر الأواخر من رمضان حتى توفاه الله، ثم اعتكف أزواجه من بعده"

ترجمہ:حضرت عائشہ رضی اللہ عنھا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان کے آخری عشرہ میں اعتکاف کیا کرتےتھے یہاں تک کہ آپ کی وفات ہوگئی ،پھر آپ کے بعد آپ کی بیویو ں نے اعتکاف کیا۔

(کتاب الإعتکاف،باب الإعتكاف في العشر الأواخر، رقم الحدیث:1922،ج:2، ص:717،ط:دارِاِبن کثیر)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"والمرأة تعتكف في مسجد بيتها، إذا اعتكفت في مسجد بيتها فتلك البقعة في حقها كمسجد الجماعة في حق الرجل، لاتخرج منه إلا لحاجة الإنسان، كذا في شرح المبسوط للإمام السرخسي".

(کتاب الصوم، الباب السابع، ج:1، ص:211، ط:دار الفکر)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144509102113
تاریخ31-03-2024

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں