بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

10 جُمادى الأولى 1448ھ 22 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

فاسد تروایح کی قضا

سوال

 تراویح کی کچھ رکعتیں فاسد ہوگئیں ،کچھ دن بعد ان کی قضا رمضان ہی  میں جماعت کے ساتھ درست ہے یا نہیں ؟

جواب

اگر کسی وجہ  سے تراویح کی  نماز فاسد ہوجائے ،تو وقت گزرنے کے بعد فاسد  شدہ  رکعتوں کا  اعادہ واجب نہیں ہے، وقت گزرنےکے بعد تراویح کی قضا کی نیت سے اعادہ کرنا مکروہ ہے۔

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"و إذا فاتت التراويح لاتقضي بجماعة و لا بغيرها و هو الصحيح ... و إذا تذكروا أنه فسد عليهم شفع من الليلة الماضية فأرادوا القضاء بنية التراويح يكره."

(كتاب الصلاة، الباب التاسع في النوافل، فصل في التراويح،1/ 129،ط: دارالکتب العلمیة)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144509101981
تاریخ30-03-2024

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں