بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

روزے کی حالت میں مشت زنی کرنے کاحکم

سوال

روزے کی حالت میں مشت زنی اگر کر لے تو کیا حکم ہے؟

جواب

واضح رہے مشت زنی انتہائی سخت گناہ ہے،ایسے شخص کو ملعون کہا گیاہے ،بالخصوص روزہ کے دوران اس عمل کی قباحت اوربھی  بڑھ جاتی ہے ،جس سے روز ہ ٹوٹ جاتا ہے،البتہ اس صورت میں صرف قضا لازم آئے گی، کفارہ لازم نہیں ہو گا۔

الدر  مع الرد میں ہے:

"وکذا الاستمناء بالکف وإن کرہ تحریما لحدیث ''ناکح الید ملعون''.وفي الرد:(قولہ: وکذا الاستمناء بالکف)أي:في کونہ لا یفسد، لکن ہذا إذا لم ینزل، أما إذا أنزل فعلیہ القضاء."

(کتاب الصوم، باب ما یفسد الصوم ومالا یفسد،مطلب: في حکم لاستمناء بالکف،ج:3،ص:426،ط:رشیدیہ)

فقط واللہ أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144509101942
تاریخ29-03-2024

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں