بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

دادا کے بھائی یا بہن کو زکواۃ دینا

سوال

دادا یا دادی کی بہن یا بھائی کو زکوٰۃ دینا کیسا ہے؟ اگر جائز نہیں ہے تو جو پیسے لا علمی میں دیے ہیں اس کا کیا حکم ہوگا ؟تقریباً تین سال سے زکوٰۃ دے رہے ہیں۔

جواب

دادا  یا دادی کے   بھائی  یا بہن اپنے  اصول میں شمار نہیں  اس لیے اگر وہ مالی اعتبار سے مستحق زکات ہوں  کہ ا ن کی ملکیت میں ساڑھے باون تولہ چاندی کی مالیت کے برابر  سونا ،چاندی  یانقدی  یاحوائج اصلیہ  سے زائد کوئی بھی مال اتنی مالیت کا  نہیں  ہو تو ان  کو زکواۃ دینا  جائز ہے،لہذاآپ نے جو زکواۃ دی ہے وہ ادا ہو گئی ہے دوبارہ  نکالنے کی ضرورت نہیں ہے۔

بدائع الصنائع میں ہے:

"ويجوز دفع الزكاة إلى من سوى الوالدين والمولودين من الأقارب ومن الإخوة والأخوات وغيرهم؛ لانقطاع منافع الأملاك بينهم".

(بدائع الصنائع، کتاب الزکاۃ، ج:2، ص:50، ط:دار الکتب العلمیة)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144509101931
تاریخ29-03-2024

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں