بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 جُمادى الأولى 1448ھ 26 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

دوران حمل عورت کی رحم سے خون یا پانی نکلنے سے روزہ نہیں ٹوٹتا

سوال

 حمل ہو اور روزہ بھی رکھا ہو تو روزے کے دوران داغ ہلکا ہلکا، خون نہیں گندا سا پانی ہے، تو اس سے پھر روزہ ٹوٹ جائے گا یا نہیں؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں حمل کے دوران عورت کی رحم سے  گندہ پانی نکلنے سے روزہ نہیں ٹوٹتا ، البتہ وضو  ٹوٹ جاتا ہے ۔

فتاوی عالمگیری میں ہے: 

"(ودم الاستحاضة) كالرعاف الدائم لا يمنع الصلاة، ولا الصوم، ولا الوطء. كذا في الهداية" .

(الفتاوى العالمكيرية، كتاب الطهارة، الفصل الرابع في أحكام الحيض، والنفاس، والاستحاضة، 1/ 39، ط: دار الفكر بيروت)

وفيه أيضا:

"المستحاضة ومن به سلس البول أو استطلاق البطن أو انفلات الريح أو رعاف دائم أو جرح لا يرقأ يتوضئون لوقت كل صلاة، ويصلون بذلك الوضوء في الوقت ما شاءوا من الفرائض والنوافل هكذا في البحر الرائق".

(الفتاوى العالمكيرية، كتاب الطهارة، الفصل الرابع في أحكام الحيض والنفاس والاستحاضة، 1/ 41، ط: دار الفكر بيروت)

فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144509101928
تاریخ29-03-2024

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں