بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

رمضان المبارک میں افطار کی وجہ سے مغرب کی نماز میں تاخیر کا حکم

سوال

رمضان میں دیر سے مغرب پڑھنے کا شرعی حکم کیا ہے اور کتنے وقت تک امام جماعت پڑھا سکتا ہے؟

جواب

عام دنوں میں مغرب کی نماز کی ادائیگی میں جلدی کرنا افضل ہے، البتہ رمضان المبارک کے مہینے میں افطار کی وجہ سے نماز میں آٹھ، دس منٹ کی تاخیر کی جا سکتی ہے، تاکہ لوگ گھروں سے افطار کرکے جماعت میں شریک ہوسکیں، البتہ اتنی تاخیر کرنا کہ آسمان پر ستارے ظاہر ہوجائیں،  مکروہ تحریمی ہے۔

رد المحتار علي الدر المختار میں ہے:

"(و) أخر (المغرب إلى اشتباك النجوم) أي كثرتها (كره) أي التأخير لا الفعل لأنه مأمور به (تحريما) إلا بعذر كسفر، وكونه على أكل.

(قوله: إلا بعذر إلخ) ظاهره رجوعه إلى الثلاثة أيضا لكن ذكر في الإمداد في تأخير العصر إلى الاصفرار عن المعراج أنه لا يباح التأخير لمرض أو سفر اهـ ومثله في الحلية واقتصر في الإمداد وغيره على ذكره الاستثناء في المغرب، وعبارته إلا من عذر كسفر ومرض وحضور مائدة أو غيم. اهـ."

(كتاب الصلاة، ١ / ٣٦٩، ط: دار الفكر)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144509101803
تاریخ28-03-2024

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں