بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

سونے کی حالت میں احتلام ہوگیا ہو اور پتہ نہیں چلا

سوال

سوتے میں احتلام ہو جائے اور اٹھ کر پتا نہیں چلا اور نماز پڑھ لی تو کیا حکم ھے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں غسل جنابت کے بغیر جتنی بھی نمازیں ادا کی ہیں، ان سب کو دوہرانا فرض ہے، اس لیے کہ احتلام ہونے کے بعد غسل واجب ہے، اور  طہارت نماز کے لیے شرط ہے، بغیر طہارت کے نماز ادا نہیں ہوتی۔

  ترمذي شريف ميں ہے:

 " حَدَّثَنَا قُتَيْبَةُ بْنُ سَعِيدٍ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ سِمَاكِ بْنِ حَرْبٍ (ح) وحَدَّثَنَا هَنَّادٌ، قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ إِسْرَائِيلَ، عَنْ سِمَاكٍ، عَنْ مُصْعَبِ بْنِ سَعْدٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لاَ تُقْبَلُ صَلاَةٌ بِغَيْرِ طُهُورٍ وَلاَ صَدَقَةٌ مِنْ غُلُولٍ."

(الترمذي :  باب ما جاء لا تقبل صلاة بغير طهور، رقم الحديث: 1، ط:  دار الغرب الإسلامي - بيروت )

الموسوعة الفقهيه الكويتيه ميں ہے:

"يحرم على الجنب الصلاة سواء أكانتفرضا أم نفلا ؛ لأن الطهارة شرط صحة الصلاة ولقول النبي صلى الله عليه وسلم : لا تقبل صلاة بغير طهور .وهذا باتفاق."

(الموسوعة الفقهية الكويتية: ج:16 ص:52، ط: وزارة الأوقاف والشئون الإسلامية - الكويت)

فقط والله اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144509101788
تاریخ27-03-2024

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں