بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

عیسائی ذمی سے خدمت لینا اور ان کو صدقہ دینے کا حکم

سوال

میرے گھر میں جو کام کرنے والے آتی ہیں وہ کرسٹن(عیسائی) ہے کیا  مجبوری کی حالت میں کرسٹن(عیسائی)  سے خدمت کروا سکتے ہیں اور اگر وہ غریب ہو تو ہم ان کی مدد کس صورت میں کر سکتے ہیں کیا ان کو صدقے کی نیت سے کوئی پیسے یا راشن وغیرہ دے سکتے ہیں ،ان کو زکوۃ نہیں دے سکتے تو کیا ان کو صدقہ دے سکتے ہیں ہمارا صدقہ قبول ہو جائے گا یا بغیر صدقے کی نیت سے مدد کی جائے ؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں عیسائی خاتون اگر پاکی ناپاکی کا خیال رکھے،تو اس سے گھر کے کام کاج کروانا یا ملازمت پر رکھنا  شرعاً جائز ہے۔

باقی غیر مسلم لوگوں کو زکات یا صدقہ واجبہ دینا تو شرعاً جائز نہیں،البتہ نفلی صدقہ دیا جا سکتا ہےاور  اس میں صدقہ کی نیت کرنا بھی درست ہے۔

فتاوی شامی میں ہے:

"وشرعا (تمليك نفع) مقصود من العين (بعوض)."

(کتاب لاجارۃ،ج:6،ص:4،ط:سعید)

وایضاً فیہ:

"(ولا) تدفع (إلى ذمي) لحديث معاذ (وجاز) دفع (غيرها وغير العشر) والخراج (إليه) أي الذمي ولو واجبا كنذر وكفارة وفطرةخلافا للثاني وبقوله يفتي حاوي القدسي...(قوله: وبقوله يفتي) الذي في حاشية الخير الرملي عن الحاوي وبقوله نأخذ."

(کتاب الزکاۃ،باب المصرف،351/352/2،ط:سعید)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144509101775
تاریخ27-03-2024

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں