اپنی بیگم کو ساتھ لے کر شاپنگ (خریداری) کےلیے جانے کا حکم
سوال
اپنی بیگم( بیوی )کو ساتھ لےکر شاپنگ(shopping) کرنا جائز ہے یا نہیں ؟
جواب
صورتِ مسئولہ میں بہتریہ ہے کہ شوہرخودہی خریداری کرے،آج کل مخلتف ذرائع سےخواتین کی پسندکی ہی چیزیں گھربیٹھےمنگوائی جاسکتی ہیں،لہٰذاعورت کےلیےبلاضرورت گھرسےخریداری کےلیےنکلناجائزنہیں،خصوصاًجب کہ بازارمیں مردوں کےساتھ بےتکلفانہ گفتگو،بھاؤ تاؤاوراختلاط ہو،تاہم اگرمجبوری ہوتوشوہر اپنی بیوی کو مکمل پردےکی رعایت کےساتھ خریداری کےلیے اپنےساتھ لےجاسکتاہے۔
الدرالمختار میں ہے:
"(وينقلها فيما دون مدته) أي السفر (من المصر إلى القرية وبالعكس) ومن قرية إلى قرية لأنه ليس بغربة، وقيده في التتارخانية بقرية يمكنه الرجوع قبل الليل إلى وطنه، وأطلقه في الكافي قائلا: وعليه الفتوى."
(کتاب النکاح، باب المهر، مطلب فی السفر بالزوجة، ج: 3، ص: 147، ط: سعيد)
تفسيرمظہری میں ہے:
"أمر بالقرار في البيوت وعدم الخروج بقصد المعصية كما يدل عليه قوله تعالى وَلا تَبَرَّجْنَ فإنه عطف تفسيري وتأكيد معنى وليس في الآية نهي عن الخروج من البيت مطلقا."
(ج: 7، ص:338، ط: رشيدية)
فقط والله اعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

