بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1448ھ 20 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

سنتوں ميں فاتحہ كے بعد سورة چهوڑنے كا حكم

سوال

سنت نماز میں سورہ فاتحہ پڑھنے سے ہی نماز پوری ہوگی؟

جواب

واضح رہے کہ فرض نمازوں کی پہلی دورکعتوں اورسنن ونوافل کے تمام رکعتوں میں  مطلق قراءت کرنا فرض ہے جب کہ سورۃ الفاتحہ کے بعد تین چھوٹی آیات کے بقدر قراءت کرناواجب ہے؛لہٰذا اگر سورۃ الفاتحہ کی بعد والی قراءت سہواًچھوٹ جائےتوسجدہ سہو کرناضروری  ہوتا ہے،جس سے نقصان کی تلافی ہوجاتی ہے۔

مجمع الانہر میں ہے:

"(وواجبها) أي واجب الصلاة الذي لا يلزم فسادها بتركه وإنما يلزم الإثم إن كان عمدا وسجدتي السهو إن كان خطأ (قراءة الفاتحة) فلا تفسد الصلاة بتركها عندنا...(وضم) مقدار (سورة) من آية طويلة أو ثلاث آيات قصار إلى الفاتحة فلا تفسد الصلاة بتركها بل يجب سجود السهو إن تركها ساهيا كما تقرر آنفا."

(کتاب الصلوۃ، واجبات الصلوۃ، ج:1، ص:77، ط:المطبعة العامرة)

فقط والله اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144509101682
تاریخ26-03-2024

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں