بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1448ھ 20 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

صرف 70 ہزار روپے پہ زکات کا حکم

سوال

 میرے پاس 70 ہزار روپے  ہیں ،اِس پر زکات ہے یا نہیں؟

جواب

فی زمانہ پاکستان میں صرف  70 ہزار روپے پہ زکات نہیں ہے،البتہ  اگر اِس کے ساتھ کچھ سونا یا چاندی یا مالِ تجارت  بھی ہے،جس کی وجہ سے کل مالیت  ساڑھےباون تولہ چاندی کی قیمت  کو پہنچ جائے ،تو پھر اِس پر سال گزرنے کے بعد زکات آئےگی۔

فتاویٰ شامی میں ہے:

"(وسببه) أي سبب افتراضها (ملك نصاب حولي) نسبة للحول لحولانه عليه (تام) بالرفع صفة ملك، خرج مال المكاتب."

(كتاب الزكاة، 256/2، ط:سعید)

فتاویٰ ہندیہ میں ہے:

"وتضم قيمة العروض إلى الثمنين والذهب إلى الفضة قيمة كذا في الكنز."

(كتاب الزكاة، الباب الثالث في زكاة الذهب والفضة والعروض، 178/1، دار الفكر)

فقط واللہ أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144509101680
تاریخ26-03-2024

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں