بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

نماز جنازه جهراً پڑهنے كا حكم

سوال

نمازِ جنازہ کو جہراً (اونچی آواز) سے پڑھنا جائز ہے؟ جیسا کہ غیر مقلدین حضرات پڑھتے ہیں، کیا یہ قرآن وسنت سے ثابت ہے؟

جواب

جنازے کی نماز  میں ثناء،درود شریف اور دعا آہستہ پڑھنا سنت متوارثہ  ہے،لہذا نمازِ جنازہ میں  مذکورہ اذکار جہراً پڑھنا خلاف ِسنت ہے،البتہ اگر کسی نے جہراً پڑھا دی تو  نمازِ جنازہ ہو جائے گی ،دہرانے کی ضرورت نہیں۔

بدائع الصنائع میں ہے:

"ولا يجهر بما يقرأ عقيب كل تكبيرة لأنه ذكر، والسنة فيه المخافتة".

(کتاب الصلاۃ، فصل بيان كيفية الصلاة على الجنازة، ج:1، ص:312، ط:مطبعة الجمالية بمصر)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144509101676
تاریخ26-03-2024

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں