بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

نصابِ زکوۃ سے کم مال کوئی زکوۃ نہیں

سوال

(1)میری بیوی کے پاس 4.77 تولہ سونا ہے جس کی قیمت 848000 روپے ہے، (2)میرے نام پر ایک 70 موٹر سائیکل ہے، جسکی قیمت 45000 ہے،  اس کے علاوہ ہمارے پاس کچھ نہیں ہے، میری تنخواہ 35 ہزار ہے جو ہمارے گزارہ کے لیے استعمال ہوتی ہے۔ کیا ہم پر زکوٰۃ واجب ہے؟

جواب

 صورتِ مسئولہ میں (1)اگر  سائل کی بیوی کی  ملکیت میں صرف4.77 سونا ہے،  اس کے  علاوہ اموالِ زکات  (نقدی، چاندی اور مال تجارت ) میں سے کچھ نہیں ہے، تو سائل کی بیوی  پر زکات واجب نہیں ، تاہم اگر  سونے کے ساتھ اموالِ زکات  میں  سے کوئی  چیز ہو اور سونا اس کے ساتھ مل کر  ساڑھےباون تولہ چاندی کی قیمت کے  بقدر  پہنچتا ہو، تو سائل کی بیوی  پر  زکات  واجب ہوگی۔
(2)سائل کی ملکیت میں جو 70 موٹرسائیکل ہے،وہ حوائجِ اصلیہ میں داخل ہونے کی وجہ سے اس پر بھی زکوۃ واجب  نہیں ۔ 
واضح رہے کہ میاں ،بیوی  کی املاک کو جمع کر کے  اگر زکوۃ   کی نصاب کو پہنچ جائے تب بھی زکوۃ واجب نہیں ہوتی، بلکہ   وجوبِ زکوۃ کے لیےہر ایک کی ملکیت میں بقدرِ نصاب مال کا ہونا ضروری ہے۔

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"وهي واجبة على الحر المسلم المالك لمقدار النصاب فاضلا عن حوائجه الأصلية كذا في الاختيار شرح المختار، ‌ولا ‌يعتبر ‌فيه ‌وصف ‌النماء ويتعلق بهذا النصاب وجوب الأضحية."

(‌‌کتاب الزکاۃ، الباب الثامن في صدقة الفطر، ج:1، ص:191، ط:رشیدیہ)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144509101672
تاریخ26-03-2024

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں