بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1448ھ 20 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

رمضان کےآخری جمعہ میں ایک نمازکی قضاپڑھنے سے باقی فوت شدہ نمازوں سےذمہ بری نہیں ہوتا

سوال

کیا ماہ رمضان کےآخری جمعہ میں ساری قضا نمازیں نکل سکتی ہیں یا نہیں؟

جواب

واضح رہےکہ فوت شدہ نمازوں میں سےہرایک کی مستقل قضاپڑھناضروری ہے، کسی ایک نمازکی قضاپڑھنے سے باقی  فوت شدہ نمازوں سے ذمہ بری نہیں ہوتا۔ نیزیہ بھی واضح رہے کہ بعض  باتیں لوگوں کی زبانوں پرمشہورہوجاتی ہیں اورپھررفتہ رفتہ وہ احادیث کےطورپربیان ہونے لگتی ہیں حالانکہ نہ وہ احادیث ہوتی ہیں اورنہ ہی اس کی کوئی اصل ہوتی ہے۔من جملہ ان میں سے ایک یہ بات بھی ہےکہ:

"جس شخص نے رمضان مبارک کے آخری جمعہ میں فرض نمازکی قضاپڑھ لی تووہ اس کے لئے70سال کی فوت شدہ نمازوں کے لئے کفارہ بن جاتی ہے"۔

الاسرارالمرفوعۃ فی الاخبارالموضوعۃ میں ہے:

"حديث"من قضى صلاة من الفرائض في آخر جمعة من شهر رمضان كان ذلك جابرا لكل صلاة فائتة في ‌عمره إلى سبعين سنة"باطل قطعا لأنه مناقض للإجماع على أن شيئا من العبادات لا يقوم مقام فائتة سنوات ثم لا عبرة بنقل النهاية ولا ببقية شراح الهداية فإنهم ليسوا من المحدثين ولا أسندوا الحديث إلى أحد من المخرجين."

(بدون الکتاب والباب، ص:356،الرقم:519،ط:مؤسسة الرسالة بيروت)

فقط والله اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144509101656
تاریخ26-03-2024

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں