بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

12 جُمادى الأولى 1448ھ 24 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

وقت سے پہلے اذان کا حکم

سوال

وقت  سے پہلے اذان کا حکم؟

جواب

اگر اذان وقت کے داخل ہونے سے پہلے دے دی گئی اور نماز وقت کے داخل ہونے کے بعد پڑھی ہو تو اس صورت میں نماز تو ہو جائے گی، البتہ اذان نماز کے وقت سے پہلے کہنا درست نہیں، وقت آنے کے بعد اعادہ ضروری ہے۔

بدائع الصنائع میں ہے:

"وأما بيان وقت الأذان والإقامة فوقتهما ما هو وقت الصلوات المكتوبات، حتى لو أذن قبل دخول الوقت لا يجزئه، ويعيده إذا دخل الوقت في الصلوات كلها في قول أبي حنيفة ومحمد. وقد قال أبو يوسف: أخيرا لا بأس بأن يؤذن للفجر في النصف الأخير من الليل، وهو قول الشافعي".

(كتاب الصلاة، فصل بيان وقت الأذان والإقامة،1/ 154،ط: دار الكتب العلميۃ  )

فقط والله اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144509101636
تاریخ26-03-2024

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں