بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

رضامندی سے زائد رقم لینا

سوال

اکثر ایسا ہوتا ہے کہ ہمارے درمیان کچھ لین دین کا معاملہ طے ہوتا ہے، پیسے کبھی راؤنڈ فیگر میں کرنے کے لئے کیا دینے والا لینے والے کے بغیر کہے آسانی کے لئے ایسا کرسکتا ہے؟ مثلا 10352 روپے کی جگہ 10500 روپے اپنی خوشی سے بتا کر دے دے، تاکہ حساب کتاب میں آسانی ہو؟

جواب

صورت مسئولہ میں خرید و فروخت کا کوئی معاملہ ہونے کے بعد راؤنڈ فیگر کرنے کے لئے خریدار اپنی رضامندی اور خوشی سے قیمت میں اضافہ کردے تو اس میں کوئی قباحت نہیں لیکن اگر خریدار کی رضامندی نہیں تو فروخت کنندہ راؤنڈ فیگر کرنے کےلئے خریدار کو زائد رقم دینے پر مجبور نہیں کرسکتا۔

فتاوی شامی میں ہے:

"‌لا ‌يجوز ‌لأحد ‌من ‌المسلمين ‌أخذ ‌مال أحد بغير سبب شرعي۔"

(كتاب الحدود‌‌، باب التعزير: 4/ 61، ط: سعید)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144509101626
تاریخ26-03-2024

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں