بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

عورت کی امامت

سوال

کیا عورت امام بن سکتی ہے؟

جواب

فرض نماز ہو یا نفل ،عورت ، مردوں کے لیے امام نہیں بن سکتی، یعنی عورت  کی اقتدا  میں مرد کی نماز ہی نہیں ہوگی، اور اسی طرح عورت کا عورتوں کے لیے امام بننا بھی مکروہ تحریمی ہے؛ اس لیے خواتین تنہا اپنی نماز ادا کریں ، جماعت کا اہتمام نہ کریں۔

فتاوی شامی میں ہے:

" ویکره تحریماً جماعة النساء ولو في التراویح - إلی قوله - فإن فعلن تقف الإمام وسطهن فلو قدمت أثمت".

 (کتاب الصلوۃ ،باب الامامۃ، 1 / 565 ، ط : دارالفکر بیروت)

وفیه أيضاً: "(قوله: ويكره تحريماً) صرح به في الفتح والبحر (قوله: ولو في التراويح) أفاد أن الكراهة في كل ما تشرع فيه جماعة الرجال فرض أو نفل". 

(کتاب الصلوۃ ،باب الامامۃ، 1 / 565 ،ط: دارالفکر بیروت)

 فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144509101573
تاریخ25-03-2024

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں