بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

روزے کی حالت میں بیمارہونے والے شخص کا حکم

سوال

اگر زورے کے حالت میں کسی کا بلڈ پریشر کم  یا  زیادہ  ہوجائے یا کسی اور  بیمار کو دوائی    کھانے کی ضرورت پڑ جائے تو اس صورت میں روزہ کھول سکتا ہے  یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ روزے  کی حالت میں  اگر کوئی شخص ایسی بیماری میں مبتلا ہو جائے  کہ دوائی کھانے کے  علاوہ اس بیماری کا کوئی علاج نہ ہو ،اور دوائی نہ کھانے  کی صورت میں مرض بڑھنے کا اندیشہ ہو،تو ایسی صورت میں  مریض روزے کی حالت میں دوائی لے سکتا ہے،بعد میں اس روزے کا قضا کر لے،اس میں کفارہ نہیں ۔

النتف فی الفتاوی میں ہے:

"والثاني يفطر المريض اذا أضره الصيام وخشى زيادة اي مرض كان."

(کتاب الصوم،‌‌من يجوز لهم الافطار في رمضان،  ص:96، مکتبہ رشیدیہ،کوئٹہ)

تحفۃ الملوک میں ہے:

"‌صوم ‌المريض والمسافر والمريض إذا خاف شدة مرضه أو تأخر برئه أفطر وقضى."

(فصل، ص:146، مسئلہ نمبر:250، ط:دار البشائر الإسلامية - بيروت)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144509101547
تاریخ25-03-2024

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں