بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بینک سے قسطوں پر گاڑی لینے کاحکم

سوال

بینک سے قسطوں پر گاڑی لیناجائز ہےیانہیں؟

جواب

 قسطوں پر کسی چیز کاخریدنااس وقت جائز ہےجب کہ معاملہ کی صورت متعین ہویعنی نقد ہے یاادھار ہے،پھرادھار ہونے کی صورت میں مدت بھی متعین ہو،اس کے ساتھ ساتھ قسط کی مقدار بھی متعین ہو اور وقت پر قسط ادا نہ کرنے کی صورت میں اضافی رقم لازم نہ کی جائے،ان شرائط کی موجودگی میں قسطوں پر چیز کالیناجائز ہوگا،بینک میں چوں کہ ان شرائط  کی پابندی نہیں ہوتی اس لیے بینک سےقسطوں پرگاڑی کاخریدناجائز نہیں ہے۔

المبسوط للسرخسی میں ہے:

"إذا عقد العقد على أنه إلى أجل كذا بكذا وبالنقد بكذا أو قال إلى شهر بكذا أو إلى شهرين بكذا فهو فاسد؛ ‌لأنه ‌لم ‌يعاطه على ثمن معلوم ولنهي النبي صلى الله عليه وسلم عن شرطين في بيع وهذا هو تفسير الشرطين في بيع ومطلق النهي يوجب الفساد في العقود الشرعية وهذا إذا افترقا على هذا فإن كان يتراضيان بينهما ولم يتفرقا حتى قاطعه على ثمن معلوم، وأتما العقد عليه فهو جائز؛ لأنهما ما افترقا إلا بعد تمام شرط صحة العقد".

(كتاب البيوع، باب البيوع الفاسدة، ج:13، ص:8، ط:دارالمعرفة)

فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144509101461
تاریخ24-03-2024

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں