بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

29 ربیع الثانی 1448ھ 12 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

اللہ کی طرف غلطی کی نسبت کرنے کا حکم

سوال

اگر کوئی        یہ کہے کہ اللہ کا فیصلہ غلط تھا تو کیا یہ کافر ہو جاۓ گا اور اس کے نکاح کا کیا حکم ہوگا ؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں ذکر کردہ   کلمات  سے مذکورہ شخص  دائرۂ اِسلام سے خارج  ہو گیا ہے، اس پر  تجدیدِ ایمان کرنا لازم ہے، اور اگر شادی شدہ ہے تو تجدیدِ نکاح کرنا بھی ضروری ہے۔

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"(ومنها ما يتعلق بذات الله تعالى وصفاته وغير ذلك) يكفر إذا وصف الله تعالى بما لا يليق به، أو سخر باسم من أسمائه، أو بأمر من أوامره، أو نكر وعده ووعيده، أو جعل له شريكا، أو ولدا، أو زوجة، أو نسبه إلى الجهل، أو العجز، أو النقص ويكفر بقوله يجوز أن يفعل الله تعالى فعلا لا حكمة فيه ويكفر إن اعتقد أن الله تعالى يرضى بالكفر كذا في البحر الرائق".

(كتاب السير،الباب التاسع فی أحكام المرتدين،ج:2،ص:280،ط:دار الکتب العلمیہ)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144509101328
تاریخ23-03-2024

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں