بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1448ھ 20 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

سال پورا ہونے کے بعد آنے والی رقم پر سال کا گزرنا شرط ہے یا ان پر زکٰوۃ واجب ہے؟

سوال

ميرے پاس ایک لاکھ بیس ہزار روپے ہیں  جن پر سال بھی گذرچکاہے لیکن ان پیسوں پر نصاب پورا نہ ہونے کی وجہ سے زکوٰۃ نہیں ہے  لیکن ابھی میرے پاس تیس ہزار روپے آگئے ہیں  جن پر سال نہیں گذرا ہے تو اب مجھ پر زکوٰۃ فرض ہے  یا ان تیس ہزار پر حولان حول کا ہونا ضروری ہے ؟

جواب

صورت مسئولہ میں  مزید تیس ہزار آنے  کے بعد اب نصاب پورا ہے لہذا اب جب  نصاب یعنی ان  ڈیڑھ لاکھ روپوں  پر سال  گزرجائے گاتو زکٰوۃ  واجب ہوگی ۔

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"فإن استفاد بعد حولان الحول فإنه لا يضم ويستأنف له حول آخر بالاتفاق هكذا في شرح الطحاوي."

(کتاب الزکٰوۃ، الباب الأول فی تفسیر الزکٰوۃ وصفتھا وشرائطھا، ج:1، ص:175، ط:دارالفکر)

فتاوی شامی میں ہے:

"(وسببه) أي سبب افتراضها (ملك نصاب حولي) نسبة للحول لحولانه عليه (تام) بالرفع صفة ملك."

(کتاب الزکٰوۃ، ج:2، ص:259، ط:سعید)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144509101250
تاریخ22-03-2024

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں