بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بیٹے کو زکوۃ دینا جائز نہیں

سوال

کیا باپ بیٹے کو زکوۃ دے سکتا ہے؟

جواب

واضح رہے کہ زکوۃ اپنے اصول (والدین ،دادا/دادی، نانا، نانی وغیرہ) و فروع (بیٹا / بیٹی، پوتا/پوتی، نواسا / نواسی) وغیرہ کو دینا جائز نہیں ہے، لہٰذا صورتِ مسئولہ میں باپ کا اپنے بیٹے کو زکوۃ دینا جائز نہیں۔

ملتقی الأبحر میں ہے:

"‌ولا ‌يدفع ‌إلى ‌أصله وإن علا أو فرعه وإن سفل".

(كتاب الزكاة، باب في بيان أحكام المصرف، ص:324، ط:دار الكتب العلمية - لبنان/ بيروت)

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"و لايدفع إلى أصله، وإن علا، وفرعه، وإن سفل كذا في الكافي".

(کتاب الزکاۃ، الباب السابع في المصارف، ج:1، ص:188، ط: رشيديه)

فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144509101236
تاریخ22-03-2024

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں