بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

10 مرلہ کی مالکہ کو زکوۃ دے سکتے ہیں؟

سوال

ایک بیوہ عورت ہے اس کی ملکیت میں 20مرلہ زمین ہے،جس میں سے 10 مرلہ زمین پر گھر بنایا اور باقی 10 مرلہ ویسے ہی پڑی، اس میں کچھ بھی نہیں ،صرف اس کے اردگرد  بطور حفاظت چھوٹی سی دیوار بنائی ہے۔ کیا یہ عورت زکوٰة کی مستحق ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں مذکورہ  خاتون کے پاس ضرورت سے زائد 10 مرلہ زمین  ہے اس لئےوہ  زکوۃ کی مصرف نہیں ہے اور اسے زکوۃ نہیں دے سکتے ہیں البتہ اگر زائد زمین کی مالیت بالفرض نصاب سے کم ہوتو پھر اسے زکوۃ دے سکتے ہیں ۔

فتاویٰ عالمگیریہ میں ہے:

"(منها الفقير) وهو من له أدنى شيء وهو ما دون النصاب أو قدر نصاب غير نام وهو مستغرق في الحاجة فلا يخرجه عن الفقير ملك نصب كثيرة غير نامية إذا كانت مستغرقة بالحاجة."

(كتاب الزكوة، الباب السابع في المصارف، ج:1، ص:187،ط: دارالفكر)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144509101222
تاریخ22-03-2024

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں