10 مرلہ کی مالکہ کو زکوۃ دے سکتے ہیں؟
سوال
ایک بیوہ عورت ہے اس کی ملکیت میں 20مرلہ زمین ہے،جس میں سے 10 مرلہ زمین پر گھر بنایا اور باقی 10 مرلہ ویسے ہی پڑی، اس میں کچھ بھی نہیں ،صرف اس کے اردگرد بطور حفاظت چھوٹی سی دیوار بنائی ہے۔ کیا یہ عورت زکوٰة کی مستحق ہے؟
جواب
صورتِ مسئولہ میں مذکورہ خاتون کے پاس ضرورت سے زائد 10 مرلہ زمین ہے اس لئےوہ زکوۃ کی مصرف نہیں ہے اور اسے زکوۃ نہیں دے سکتے ہیں البتہ اگر زائد زمین کی مالیت بالفرض نصاب سے کم ہوتو پھر اسے زکوۃ دے سکتے ہیں ۔
فتاویٰ عالمگیریہ میں ہے:
"(منها الفقير) وهو من له أدنى شيء وهو ما دون النصاب أو قدر نصاب غير نام وهو مستغرق في الحاجة فلا يخرجه عن الفقير ملك نصب كثيرة غير نامية إذا كانت مستغرقة بالحاجة."
(كتاب الزكوة، الباب السابع في المصارف، ج:1، ص:187،ط: دارالفكر)
فقط واللہ اعلم
دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

