بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

موبائل سے تصویر کھینچنے اور رکھنے کا حکم

سوال

موبائل سے تصویر کھینچنا اور موبائل سے لی گئی جاندار کی تصویر دیکھنا جائز ہے یا نہیں ؟

جواب

واضح رہےکہ کسی بھی جان دار کی تصویر بنانا، چاہے جس آلہ سے بھی ہو شرعاً ناجائز اور حرام ہے، اسی طرح بغیر شدید ضرورت کے تصاویر رکھنا بھی نا جائز ہے، اور اس پر حدیث پاک میں سخت وعیدیں وارد ہوئی ہیں،

صحیح ِ بخاری میں ہے: 

"لا تدخل الملائكة بيتا فيه كلب ولا تصاوير"
جس گھر  میں کتا یا تصویر ہو وہاں (رحمت کے)فرشتے داخل نہیں ہوتے

(کتاب اللباس، باب التصاویر، 2 / 404، ط: رحمانیہ)

وفیہ ایضاً:

"إن أشد الناس عذابا عند الله يوم القيامة المصورون"
قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے ہاں سب سے سخت عذاب تصویر بنانے والوں کو ہوگا

(کتاب اللباس، باب التصاویر، باب عذاب المصورین یوم القیامۃ، 2 / 405، ط: رحمانیہ)

لہذا موبائل سے بھی جاندار کی تصویر کھینچنا جائز نہیں اور موبائل سے لی گئی جاندار کی تصویر دیکھنا بھی جائز نہیں۔

فتاویٰ محمودیہ میں ہے:

"(ایک سوال کے جواب میں فرمایا کہ )جاندار کی تصویر بنانا ممنوع ہے خواہ ابتداءً جاندار سے بنائی جائےیا تصویر نقل کی جائے، قلم سے ہو یا مشین سے، یا کپڑےکی بناوٹ میں ہو، یا پتھر ، لکڑی، لوہے وغیرہ پر کسی آلہ سے بنائی جائے"

(کتاب الحظر والاباحۃ، تصویر کا بیان، 19 / 480، ط: دار الافتاء جامعہ فاروقیہ کراچی)

فقط واللہ اَعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144509101197
تاریخ21-03-2024

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں