بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

10 جُمادى الأولى 1448ھ 22 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

تراویح کے دوران مقتدیوں میں سجدہ تلاوت کا اعلان کرنا

سوال

کیا نماز تراویح میں سجدہ تلاوت سے پہلے مقتدیوں کو سجدہ تلاوت کے بارے میں بتانا جائز ہے؟

جواب

تراویح کی نماز میں نیت باندھنے سے پہلے سجدہ تلاوت کا اعلان کرنا خیرالقرون سے ثابت نہیں ہے ؛اس لیے اس کو لازم اور ضروری سمجھنا درست نہیں ہے ،البتہ اگر مجمع زیادہ ہے ،جیسا کہ بڑے شہروں میں یا بڑی مساجد میں ہوتا ہے ،صفیں دور دور تک ہوتی ہیں اور کچھ صفیں بالائی منزل میں بھی ہوتی ہے ،سجدہ تلاوت کا اعلان نہ کرنے کی صورت میں مغالطہ کا قوی  احتمال رہتا ہے کہ لوگوں کو سجدہ تلاوت کا پتہ نہ چلے اور سجدہ کے بجائے رکوع کرنے لگیں تو ایسے موقع پر ضرورت کی بناء پر اعلان کرنے کی اجازت ہے ،باقی اس کو لازم سمجھنا اور اعلان نہ کرنے کی صورت میں برا بھلا کہنا ،شور شرابہ کرنا جائز نہیں  ۔

مرقاۃ المفاتیح میں ہے :

"قال النووي: ‌البدعة كل شيء عمل على غير مثال سبق، وفي الشرع إحداث ما لم يكن في عهد رسول الله - صلى الله عليه وسلم ".

(کتاب الایمان ،باب الاعتصام بالکتاب والسنة، ج:1، ص:223، ط:دارالفکر)

فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144509101160
تاریخ21-03-2024

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں