بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1448ھ 20 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

ننگے سر نماز پڑھنے اور نمازی کے سامنے گزرنے کا حکم

سوال

1.ننگے سر نماز پڑھنا کیسا ہے ؟2۔ سجدے میں ماتھے کے نیچے سر کے بال یا ٹوپی آئے تو کیا نماز میں فرق پڑتا ہے ؟3۔نمازی کے سامنے گزرنے والے کا کیا حکم ہے؟

جواب

1۔ننگے سر نماز پڑھنا مکروہ ہے ،جب سستی یا لاپرواہی کی وجہ سے سر کو نہ ڈھانپاہو۔

2۔سجدے میں پیشانی کے نیچےبال یا ٹوپی آنے سے نماز میں کوئی کراہت نہیں آتی ہے ۔

3۔نمازی کے سامنے گزرنا مکروہ تحریمی ہے ،حدیث نبوی میں ہے:اگر نمازی کے سامنے گزرنے والا کو گزرنے کا گناہ معلوم ہوجائے تو وہ چالیس (دن یاشہریاسال) کھڑے ہونے کو ترجیح دیگا گزرنے پر۔

"وتكره الصلاة حاسرا رأسه إذا كان يجد العمامة وقد فعل ذلك تكاسلا أو تهاونا بالصلاة ولا بأس به إذا فعله تذللا وخشوعا بل هو حسن. كذا في الذخيرة."

(فتاوی ھندیہ ،کتاب الصلا ۃ ،الباب السابع ،الفصل الثانی ،ج:1،ص:106،ط:المکتبۃ الکبری الامیریۃ)

"ويكره أن يسجد على كور عمامته كذا في الذخيرة إنما يكره إذا لم يمنع وجدان حجم الأرض فإنه لو منع ذلك لم يجز أصلا. كذا في البرجندي."

(کتاب الصلاۃ ،الباب  السابع ،الفصل الثانی ،ج:1،ص:108،ط:المکتبۃ الکبری الامیریۃ)

"ويكره للمار أن يمر بين يدي المصلي؛ لقول النبي صلى الله عليه وسلم «لو علم المار بين يدي المصلي ما عليه من الوزر لكان أن يقف أربعين خيرا له من أن يمر بين يديه» ، ولم يوقت يوما أو شهرا أو سنة ولم يذكر في الكتاب قدر المرور، واختلف المشايخ فيه قال بعضهم: قدر موضع السجود، وقال بعضهم: مقدار الصفين، وقال بعضهم: قدر ما يقع بصره على المار لو صلى بخشوع، وفيما وراء ذلك لا يكره وهو الأصح، وينبغي للمصلي أن يدرأ المار أي يدفعه حتى لا يمر حتى لا يشغله عن صلاته؛ لما روي عن أبي سعيد الخدري أن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «لا يقطع الصلاة مرور شيء فادرءوا ما استطعتم."

(بدائع،کتاب الصلاۃ ،فصل بیان مایستحب فی الصلوۃ ومایکرہ ،ج:1،ص:217،ط:دارالکتب العلمیۃ)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144509101159
تاریخ21-03-2024

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں