بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

رمضان المبا رک کے پہلے عشرے کی دعا

سوال

رمضان  المبا رک کے پہلے عشرے  کی  کیا دعا ہے؟

جواب

رمضان المبار ک کا پورا مہینہ قبولیت دعا کے خاص مواقع میں سے ہے اس لیے اس میں دعاؤں کا خوب اہتمام ہونا چاہیے،  البتہ کسی مخصوص عشرہ سے متعلق کسی مخصوص دعا کا کسی حدیث سے ثبوت نہیں ہے، حدیث میں اتنا ضرور ہے کہ چار چیزوں کی اس مہینہ میں کثرت رکھا کرو، جن میں سے دو چیزیں اللہ کی رضاء کے واسطے اور دو ایسی ہیں کہ جن سے تمہیں چارہ کار نہیں، پہلی دو چیزیں جن سے تم اپنے رب کو راضی کرو وہ کلمہ طیبہ اور استغفار کی کثرت ہے اور دوسری دو چیزیں یہ ہیں:  جنت کی طلب اور جہنم سے پناہ  ، اس کے لیے   "لَاإِلٰهَ إِلَّا اللّٰهُ أَسْتَغْفِرُاللّٰهَ أَسْأَلُكَ الْجَنَّةَ وَ أَعُوْذُبِكَ مِنَ النَّارِ"  کے الفاظ منقول ہیں ( بیھقی، صحیح ابن خزیمہ وغیرہ)اس لیئے اس دعا کے اہتمام کے ساتھ اللہ سے اس کی رحمت، مغفرت، سلامتی ایمان وبدن ،فلاح دارین نیز ہر طرح کی خیر کا سوال بکثرت کرنا چاہیئے۔بعض بزرگوں سے پہلے عشرہ میں   "رَبِّ اغْفِرْ وَ ارْحَمْ وَ أَنْتَ خَیْرُ الرَّاحِمِیْنَ"دوسرے میں " أَسْتَغْفِرُ اللّٰهَ رَبِّيْ مِنْ كُلِّ ذَنْبٍ وَّ أَتُوْبُ إِلَیْهِ"  اور تیسرے میں  "اَللّٰھُمَّ إِنَّكَ  عَفُوٌّ تُحِبُّ الْعَفْوَ فَاعْفُ عَنَّا  "کا اہتمام منقول ہے، یہ آ خری دعا احادیث میں بھی طاق راتوں میں مانگنے کی ترغیب وارد ہے۔ فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144509101155
تاریخ21-03-2024

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں