بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

21 جُمادى الأولى 1448ھ 02 نومبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مقتدی کا امام کو لقمہ دیتے ہوئے بات کرنے کا حکم

سوال

ایک شخص نے بھولے ہوئے امام کو پنجابی میں کہا چل پیچھے سے پڑھ یا سورہ فاتحہ پڑھ لے ۔۔یا ایسی کو ئی بات کہنے سے نماز کا کیا حکم ہے؟

جواب

صورت ِ مسئولہ میں نماز کے دوران بات کرنے سے  مذکورہ شخص   کی نماز فاسد ہوگئی ،اس پر نماز کا اعادہ لازم ہے ۔

فتاوی ہندیہ میں ہے :

"إذا تكلم في صلاته ناسيا أو عامدا خاطئا أو قاصدا قليلا أو كثيرا تكلم لإصلاح صلاته بأن قام الإمام في موضع القعود فقال له المقتدي: اقعد أو قعد في موضع القيام فقال له: قم أو لا لإصلاح صلاته ويكون الكلام من كلام الناس استقبل الصلاة عندنا."

(کتاب الصلاۃ ،الباب السابع فیما یفسد الصلاۃ،ج:1،ص:98،دارالفکر)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144509101143
تاریخ21-03-2024

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں