بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

14 جُمادى الأولى 1448ھ 26 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

روزے دار کے لیے مسواک استعمال کرنے میں شرعاً کوئی حرج نہیں

سوال

کیا روزے کی حالت میں مسواک کرنا جائز ہے؟

جواب

روزے کی حالت میں مسواک استعمال کرنا جائز ہے، اس سے روزے کی صحت پر کوئی اثر نہیں پڑتا، اگرچہ مسواک کا ذائقہ حلق تک پہنچ جاۓ تب بھی روزہ فاسد نہ ہوگا۔

فتاوی ہندیہ میں ہے:

"ولا بأس بالسواك الرطب واليابس في الغداة والعشي عندنا، قال أبو يوسف - رحمه الله تعالى - يكره المبلول بالماء، وفي ظاهر الرواية: لا بأس بذلك، وأما الرطب الأخضر: فلا بأس به عند الكل، كذا في فتاوى قاضي خان".

(کتاب الصوم، الباب الثالث فيما يكره للصائم وما لا يكره، ج:1، ص:199، ط:رشيدية)

فتاوی شامی میں ہے:

"(أو ‌دخل ‌حلقه غبار أو ذباب أو دخان) ولو ذاكرا استحسانا لعدم إمكان التحرز عنه".

(‌‌کتاب الصوم، باب ما يفسد الصوم وما لا يفسده، ج:2، ص:395، ط:سعید)

فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144509101080
تاریخ20-03-2024

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں