بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

روزہ نہ رکھنے والے کے لیے کھانا بنانے کا حکم

سوال

دیور بلاعذر روزہ نہیں رکھتاہے، پوچھنا ہے کہ اس کے لیے کھانا بنانا جائز ہے یا نہیں؟

جواب

واضح رہے کہ ماہِ رمضان میں عاقل بالغ مسلمان مرد و زن پر شرعی عذر کے بغیر  روزہ ترک کرنا حرام ہے، اور اگر کسی شخص نے شرعی عذر کے بغیر روزہ نہ رکھا ہو تو اس کے لیے سارے دن کچھ کھائے پیے بغیر رہنا لازم ہوتا ہے، جس کی وجہ سے روزہ چھوڑنے والے کے لیے دن بھر کھانا پینا جائز نہیں ہوتا، لہذا صورتِ مسئولہ میں سائلہ کے لیے   دیور کو دن میں کھانا پینا فراہم کرنا معاونت علی الاثم ( گناہ کرنے میں تعاون فراہم کرنا) کے قبیل میں سے ہونے کی وجہ سے ناجائز ہے ۔

ارشاد باری تعالی ہے:

"﴿ وَلَا تَعَاوَنُوْا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ وَاتَّقُوا اللَّهَ إِنَّ اللَّهَ شَدِيدُ الْعِقَابِ ﴾." [المائدة: 2]

ترجمہ:" اور گناہ  اور زیادتی میں  ایک  دوسرے  کی اعانت مت کرو ، اور اللہ تعالیٰ سے ڈرا کرو ، بلاشبہ  اللہ تعالیٰ  سخت سزا دینے والے ہیں۔" (از بیان القرآن)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144509100876
تاریخ18-03-2024

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں