بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

23 جُمادى الأولى 1448ھ 06 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

روزہ فاسد ہونے کے بعد کھانے پینے کا حکم

?سوال

 روزہ فاسد ہونے کے بعد کھانا پینا کا گناہ ہے یا نہیں؟

✓جواب

 صورتِ مسئولہ میں اگر کسی وجہ سے روزہ فاسد ہو جائے تو اس کے بعدرمضان کے احترام میں کھانے پینے سے احتراز کرنا واجب ہے، اور اگر  اس کے  باوجودے کوئی قصداً کھاپی لے تو اس پر روزے کی صرف قضاء ہی ہوگی، کفارہ لازم نہیں ہوگا۔

فتاویٰ شامی میں ہے:

"(والأخيران يمسكان بقية يومهما وجوبا على الأصح) لأن الفطر قبيح وترك القبيح شرعا واجب (كمسافر أقام وحائض ونفساء طهرتا ومجنون أفاق ومريض صح) ومفطر ولو مكرها أو خطأ (وصبي بلغ وكافر أسلم وكلهم يقضون)...

كل من وجب عليه الصوم لوجود سبب الوجوب والأهلية ثم تعذر عليه المضي بأن أفطر متعمدا أو أصبح يوم الشك مفطرا ثم تبين أنه من رمضان أو تسحر على ظن أن الفجر لم يطلع ثم تبين طلوعه، فإنه يجب عليه الإمساك تشبها اهـ".

(کتاب الصوم، باب مایفسد الصوم ومالایفسد، ج:۲، صفحہ: ۴۰۷،ط:ایچ ایم سعید)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن

فتویٰ نمبر 144509100667
تاریخ17-03-2024

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں