بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

روزے دار کے لیے جسم کے غیر ضروری (زیر ناف، بغل اور مونچھ وغیرہ کے) بال کاٹنا جائز ہے

سوال

روزے کی حالت میں شرمگاہ اور جسم کے غیر ضروری بالوں کی صفائی کا کیا حکم ہے؟

جواب

واضح رہے کہ شرمگاہ کے بال یا جسم کے دیگر بال کاٹنا روزے کے منافی نہیں، لہٰذا صورتِ مسئولہ میں روزہ کی حالت میں جسم کے غیر ضروری (زیر ناف، بغل اور مونچھوں وغیرہ کے) بال  کاٹنا جائز ہے، ا س سے روزہ فاسد یا مکروہ نہیں ہوتا۔

فتاوی شامی میں ہے :

"قوله: "و تنظيف بدنه " بنحو ازالة الشعر من ابطه، ويجوز فيه الحلق و النتف اوليٰ".

(كتاب الحظر والإباحة، ج:6، ص:406، ط:سعید)

البحر الرائق میں ہے :

"(قوله هو ترك الأكل والشرب والجماع من الصبح إلى الغروب بنية من أهله) أي الصوم في الشرع ‌الإمساك ‌عن ‌المفطرات الثلاث حقيقة أو حكما في وقت مخصوص من شخص مخصوص مع النية".

(کتاب الصوم، ج:2، ص:278، ط:درالکتاب الاسلامي)

فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144509100656
تاریخ17-03-2024

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں