بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

روزہ میں نماز چھوڑنا

سوال

اگر کوئی شخص نماز قصدا چھوڑ دے روزے کی حالت میں تو کیا اس کا روزہ ہوگا یا نہیں؟

جواب

اگر کوئی شخص روزہ رکھتا ہے اور روزے کی حالت میں قصداً نماز چھوڑتا ہے تو اس کا روزےکا فریضہ ادا ہو جائے گا؛ لیکن پنج وقتہ نماز فرض اور اسلام کا بنیادی رکن ہے، اسے چھوڑنا کبیرہ گناہ ہے، اگر روزہ رکھ کر فرض نماز ادا نہیں کرے گا تو سخت گناہ گار ہوگا، رمضان المبارک میں جیسے نیکیوں کا ثواب بڑھتاہے، گناہوں کی شدت بھی بڑھ جاتی ہے، لہٰذا روزوں کی پابندی کے ساتھ ساتھ نمازوں کا بھی اہتمام کرنا چاہیے۔

البحر الرائق میں ہے:

الصوم في الشرع الامساك عن المفطرت الثلاث حقيقة او حكما في وقت مخصوص من شخص مخصوص مع النية .

(کتاب الصوم،ج:2،ص:452،ط:دار الکتب العلمیة)

فتاوی شامی میں ہے:

’’(هي فرض عين على كل مكلف)...(و يكفر جاحدها) لثبوتها بدليل قطعي (و تاركها عمدا مجانة) أي تكاسلا فاسق (يحبس حتى يصلي).

(کتاب الصلاۃ،ج:1،ص:351،ط:سعید)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144509100628
تاریخ16-03-2024

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں