بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1448ھ 20 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

چھوٹی سورتوں کے ساتھ تراویح کی نماز ادا کرنے کا حکم

سوال

رمضان کے مہینہ میں دس دن حافظ کا انتظار کرنا کیسا ہے ؟دس  دن بعد تراویح شروع کرنا اس سے پہلے سورت  تراویح کا کرنا  کیسا ہے؟

جواب

صورتِ مسئولہ میں اگر کوئی حافظ  دس رات کے بعد تراویح  میں قرانِ کریم سنانے آتا ہے، اس وقت تک علاقے والے سورت تراویح پڑھیں تو ایسا کرنا جائز ہے۔

البحرالرائق میں ہے:

"وفي التجنيس ‌ثم ‌بعضهم ‌اعتادوا قراءة {قل هو الله أحد} في كل ركعة وبعضهم اختاروا قراءة سورة الفيل إلى آخر القرآن وهذا حسن لأنه لا يشتبه عليه عدد الركعات ولا يشتغل قلبه بحفظها فيتفرغ للتدبر والتفكر اهـ".

(کتاب الصلاۃ، باب الوتر والنوافل، صلاۃ التراویح، ج:2، ص:74، ط:دار الكتاب الإسلامي)

البنایۃ شرح الھدایۃ میں ہے:

"‌ثم ‌بعضهم ‌اعتادوا قراءة {قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ} في كل ركعة، وبعضهم اختاروا قراءة سورة الفيل إلى آخر القرآن وهذا أحسن، لأنه لا يشتبه عليه عدد الركعات ولا يشغل قلبه بحفظها فيستفرغ للتدبر والتفكر".

(کتاب الصلاۃ، باب النوافل، فصل فی قیام شھر رمضان، ج:2، ص:556، ط:دار الكتب العلمية - بيروت، لبنان)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144509100602
تاریخ16-03-2024

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں