بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

گٹر کا پانی زمین میں تیس فٹ نیچے بور کرکے چھوڑنا

سوال

سوال  یہ ہے کہ اگر کسی گھر میں خراب پانی یا استعمال شدہ یا گٹر کے پانی کا باہر نالی/ نالا میں نکالنے کا کوئی راستہ نہیں ہے،  تو کیا گھر کی زمین میں30/35فٹ کھڈا کھود کر یہ پانی نیچے زمین میں چھوڑا جا سکتا ہے؟ 

جواب

صورتِ مسئولہ میں  اگر گھر  میں خراب پانی یا استعمال شدہ یا گٹر کا پانی باہر نکالنے کی کوئی نالی یا نالا  نہیں ہے ، تو گھر میں 30/ 35 فٹ کھڈا کھود کر وہاں گٹر کا پانی چھوڑا جاسکتاہے، اس میں کوئی خرابی نہیں۔

بدائع الصنائع میں ہے:

"‌للمالك ‌أن ‌يتصرف ‌في ملكه أي تصرف شاء سواء كان تصرفا يتعدى ضرره إلى غيره أو لا يتعدى فله أن يبني في ملكه مرحاضا أو حماما أو رحى أو تنورا وله أن يقعد في بنائه حدادا أو قصارا وله أن يحفر في ملكه بئرا أو بالوعة أو ديماسا وإن كان يهن من ذلك البناء ويتأذى به جاره. وليس لجاره أن يمنعه حتى لو طلب جاره تحويل ذلك لم يجبر عليه؛ لأن الملك مطلق للتصرف في الأصل والمنع منه لعارض تعلق حق الغير فإذا لم يوجد التعلق لا يمنع إلا أن الامتناع عما يؤذي الجار ديانة واجب للحديث قال عليه الصلاة والسلام "المؤمن من أمن جاره بوائقه".

(كتاب الدعوى، فصل في بيان حكم الملك، ج:6، ص:264، ط: دار الكتب العلمية)

فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144509100562
تاریخ16-03-2024

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں