بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

21 جُمادى الأولى 1448ھ 02 نومبر 2026 ء

دارالافتاء

 

تفسیر اور تشریح میں فرق اور تفسیر کی اقسام

سوال

قرآن کریم کی تفسیر اور تشریح میں کیا فرق ہے ؟ نیز تشریح اور تفسیر کی اقسام بھی واضح فرما دیں ۔ 

جواب

 تفسیر اور تشریح میں فرق یہ ہے کہ تفسیر  خاص ہےکہ قرآن کریم کی تشریح کو تفسیر کہا جاتا ہے، اور تشریح عام ہے جس کا قرآن کریم کی تفسیر اور احادیث مبارکہ وغیرہ  کی تشریح پر بھی اس کا اطلاق ہوتا ہے۔

نیز تفسیر کی دو قسمیں ہیں:

۱۔ تفسیر بالماثور۔۲۔۔تفسیر بالرائے۔تفسیر بالماثور یعنی:رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم ، صحابہ کرام اور سلف صالحین سے جو کچھ منقول ہے وہی مستند و معتبر ہے، اور تفسیر بالرائے معتبر نہیں ہے۔

البرھان فی علوم القرآن میں ہے :

"لطالب التفسير مآخذ كثيرة أمهاتها أربعة: الأول: النقل عن رسول الله صلى الله عليه وسلم،وهذا هو الطراز الأول لكن يجب الحذر من الضعيف فيه والموضوع ."الثاني: الأخذ بقول الصحابي،فإن تفسيره عندهم بمنزلة  المرفوع إلى النبي صلى الله عليه وسلم كما قاله الحاكم  في تفسير ه."

الثالث: الأخذ بمطلق اللغة، الرابع: التفسير بالمقتضى من معنى الكلام والمقتضب من قوة الشرع،وهذا هو الذي دعا به النبي صلى الله عليه وسلم لابن عباس في قوله: "اللهم فقهه في الدين وعلمه التأويل."

(البرهان في علوم القرآن ،النوع الحادي والاربعون في معرفة التفسير والتاويل، ج: ۲، صفحہ: ۱۶۱، ط: دارالفكر)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144509100543
تاریخ16-03-2024

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں