بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

مقروض شوہر کو قرض ختم کرنے کے لیے زکات دینا

سوال

کیا بیوی اپنی زکات شوہر کو دے سکتی ہے  جب کہ شوہر مقروض ہو، اور صرف قرض ختم کرنا چاہتا ہو؟

جواب

واضح رہے کہ میاں بیوی میں سے کوئی ایک دوسرے کو اپنے مال کی زکات نہیں دے سکتا،شوہر اگر حاجت مند مقروض ہے، اور بیوی صاحبِ نصاب ہے، تو بیوی کو چاہیے کہ وہ نفلی صدقات وغیرہ سے شوہر کا تعاون کرے، اس پر بیوی  صدقہ کے ثواب کے ساتھ ساتھ صلہ رحمی اور قرابت داری کے ثواب کی بھی مستحق ہوگی۔

البحر الرائق میں ہے:

"(قوله وزوجته وزوجها) أي لا يجوز الدفع لزوجته، ولا دفع المرأة لزوجها لما قدمناه من عدم قطع المنفعة عنه من كل وجه."

(كتاب الزكاة، باب مصرف الزكاة، ٢٦٢/٢، ط:دار الكتاب الإسلامي)

فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144509100507
تاریخ16-03-2024

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں