بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

روزہ کی حالت میں غیر ضروری بال کاٹنا

سوال

کیا روزہ کے دوران جسم کے غیر ضروری بال کاٹنا جائز ہے؟ اور اگر کاٹنے کے دوران تھوڑا سا خون نکل آئے جیسے خون کا ایک قطرہ ،خون ٹپکے نہیں بلکہ صرف  ظاہر ہو اور جسم پر نظر آئے، تو کیا روزہ ٹوٹے گا؟

جواب

1.روزہ کی حالت میں غیر ضروری (زیر ناف، بغل اور مونچھوں وغیرہ کے) بال کاٹنا جائز ہے،ا س سے روزہ فاسد یا مکروہ نہیں ہوتا۔

2.جسم کے کسی ظاہری حصے سے خون نکلنے سے روزہ نہیں ٹوٹتا، کیوں کہ روزہ جسم میں اصلی راستوں کے ذریعے  کسی ایسی چیز  کے داخل ہونے سے  ٹوٹتا ہے جو دوا یا غذا  ہو۔

البحر الرائق میں ہے:

"الصوم في الشرع الامساك عن المفطرت الثلاث حقيقة او حكما في وقت مخصوص من شخص مخصوص مع النية."

(کتاب الصوم،ج:2،ص:452،ط:دار الکتب العلمیة)

بدائع الصنائع میں ہے:

"قال النبي صلى الله عليه وسلم: الفطر ‌مما ‌يدخل، والوضوء مما يخرج."

(کتاب الصوم،ج:2،ص:605،ط:دار الکتب العلمیة)

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144509100471
تاریخ14-03-2024

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں