بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1448ھ 20 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

زکوٰۃ کی رقم سے کنواں بنوانا

سوال

ہمارے آبائی علاقے میں گرمی کے علاقے میں میٹھے پانی کی قلت ہوجاتی ہے، اس لیے میں چاہتا ہوں کہ وہاں میٹھے پانی کا کنواں کھدوادوں، تو کیا میں یہ کام زکوٰۃ کی رقم سے کرسکتا ہوں؟ یعنی اپنی زکوٰۃ کی رقم گاؤں بھجوادوں اور گاؤں والے اس سے کنواں کھدوالیں، تو کیا یہ جائز ہے؟

جواب

واضح رہے کہ زکوٰۃ کی ادائیگی کے لیے ضروری ہے کہ مال ِزکوٰۃ جس کو دیا جارہا ہو اُسے  اس مال کا مالک بنایا جائے، محض استعمال کی عام اجازت دینے سے ملکیت ثابت نہیں ہوتی،  بلکہ اسے  اباحت کہتے ہیں ، اور اباحت سے زکوٰۃ کی ادائیگی نہیں ہوتی۔

لہٰذا صورتِ مسئولہ میں سائل کا اپنی زکوٰۃ کی رقم سے پانی کا  کنواں  کھدوادینے سے اس کی زکوٰۃ ادا نہیں ہوگی ؛ کیوں کہ اس میں تملیکِ فقیر کی شرط نہیں پائی جاتی، تاہم سائل اگر اپنے گاؤں میں کسی ایسے شخص کو زکوٰۃ مالک بناکر دے دے جو کہ زکوٰۃ لینے کا مستحق ہو، پھر وہ شخص زکوٰۃ کی رقم پر قبضہ کرنے کے بعد اُسے اپنی خوشی سے گاؤں کے لیے کنویں کی تعمیر میں صرف کرے تو جائز ہوگا۔

البحر الرائق میں ہے:

"وفي اصطلاح الفقهاء ما ذكره المصنف (قوله هي تمليك المال من فقير مسلم غير هاشمي، ولا مولاه بشرط قطع المنفعة عن المملك من كل وجه لله تعالى) لقوله تعالى: وآتوا الزكاة. والإيتاء هو التمليك، ومراده تمليك جزء من ماله، وهو ربع العشر أو ما يقوم مقامه."

(کتاب الزکاۃ، ٢/ ٢٠١، ط: دارالكتب العلمية)

فتاویٰ عالمگیریہ  میں ہے:

"ولا يجوز أن يبني بالزكاة المسجد، وكذا القناطر والسقايات، وإصلاح الطرقات، وكري الأنهار والحج والجهاد وكل ما لا تمليك فيه."

(کتاب الزکاۃ، الباب السابع في المصارف١/ ١٨٨، ط: دارالفكر)

فتاویٰ شامی میں ہے:

"ويشترط أن يكون الصرف (تمليكا) لا إباحة كما مر (لا) يصرف (إلى بناء) نحو (مسجد و) لا إلى (كفن ميت وقضاء دينه) ... لعدم التمليك وهو الركن.

وقال عليه في الرد: (قوله: نحو مسجد) كبناء القناطر والسقايات وإصلاح الطرقات وكري الأنهار والحج والجهاد وكل ما لا تمليك فيه زيلعي."

(كتاب الزكاة، باب مصرف الزكاة والعشر، ٢/ ٣٤٤، ط: سعید)

فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144509100466
تاریخ14-03-2024

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں