بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

7 جُمادى الأولى 1448ھ 19 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

انسان کے ہر جوڑ پر صدقہ دینے کی حیثیت

سوال

حدیث میں ہے جس کا مفہوم ہے کہ انسان کے ہر ایک جوڑ پر روزانہ صدقہ دینا ہوتا ہے۔ ایک بار تسبیح پڑھنا صدقہ ہے، اسی طرح اور چیزیں بتلائیں کہ یہ سب صدقہ ہیں۔ سوال یہ ہے کہ یہ 360 جوڑ کا روزانہ صدقہ کرنا فرض ہے یا واجب ہے یا سنت مؤکدہ ہے یا سنت غیر مؤکدہ ہے؟

جواب

صورت مسئولہ میں حدیث شریف میں صدقہ سے مراد  مستحب اور نفلی صدقہ ہے نہ کہ وجوبی اور لزومی،اور اس میں نیک اعمال کرنے  کی ترغیب ہے۔

شرح للنووی علی مسلم میں ہے:

"قوله صلى الله عليه وسلم (كل سلامى من الناس عليه صدقة كل يوم تطلع فيه الشمس) قال العلماء المراد صدقة ندب وترغيب لا إيجاب وإلزام۔"

(شرح النووی علی مسلم،ج:7،ص:94،95،ط:احیاءالتراث العربی - بیروت)

الموسوعۃ الفقہیہ میں ہے:

" وقد تطلق الصدقة: على كل نوع من المعروف، ومن ذلك قول النبي صلى الله عليه وسلم: كل معروف صدقة۔"

(الموسوعة الفقهية،ج:26،ص:324،ط:مطابع دار الصفوة - مصر)

والله اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144509100443
تاریخ14-03-2024

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں