بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

روزہ کے دوران احتلام ہو جائے تو روزہ فاسد نہیں ہوتا

سوال

روزہ کے دوران احتلام ہو جائے تو کیا روزہ ٹوٹ گا؟

جواب

 روزہ دار کو احتلام ہو جائے تو اس سے روزہ نہیں ٹوٹتا، بلکہ روزہ صحیح ہے، تاہم جتنا جلدممکن ہوغسل کرلے ، بلاوجہ غسل میں تاخیر نہ کرے ،تاکہ روزے کا زیادہ سے زیادہ وقت پاکی میں گزرے۔

بدائع الصنائع میں ہے:

"ولو احتلم في نھار رمضان فأنزل لم یفطرہ لقول النبي صلی اللہ عليه وسلم: ثلاث لا یفطرن الصائم: القییٴ والحجامة والاحتلام، ولأنه لا صنع له فيه فیکون کالناسي".

(کتاب الصوم، فصل أركان الصيام، ج:2، ص:91، ط:دار الكتب العلمية وغيرها)

البحر الرائق میں ہے:

"أو احتلم أو أنزل بنظر أي لا یفطر لحدیث السنن لا یفطر من قاء ولا من احتلم ولا من احتجم". 

(کتاب الصوم، باب ما یفسد الصوم وما لا یفسدہ، ج:2، ص:293، ط:دار الكتاب الإسلامي)

فتاوی شامی میں ہے:

"(أو احتلم أو أنزل بنظر)۔۔۔۔۔۔ (لم يفطر)، جواب الشرط".

(کتاب الصوم، باب ما يفسد الصوم وما لا يفسده، ج:2، ص:396، ط:سعید)

فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144509100422
تاریخ14-03-2024

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں