بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

دکان بيوٹي پارلر کے لیے کرائے پر دینا

سوال

میرے پاس دوکان کی ایک جگہ ہے ،جس کو میں کرایہ پردیناچاہتاہوں، اب ایک لیڈیز بیوٹی پارلر کے لیے کرایہ پر مجھ سے لیناچارہی ہے ،کیا میں اسے کرایہ پردے سکتاہوں،شرعاکیاحکم ہے؟

جواب

آج کل بیوٹی پارلر میں جائز اورناجائزدونوں قسم کےکام  کئے جاتے ہیں،جس کی تفصیلات معلوم کی جاسکتی ہے،لہذا اگربیوٹی پارلر میں خلاف شریعت کام نہیں ہوتے توانہیں کرایہ پردکان دی جاسکتی ہے،اورشرعا کرایہ لینابھی درست اورجائز ہے،لیکن اگرغالب گمان یہ ہوکہ وہ شرعی حدود کالحاظ نہیں رکھیں گے توانہیں یہ دکان کرایہ پرنہ دیں ،اورایسی صورت میں کرایہ لینابھی درست نہیں ہوگا۔

فتاوی شامی میں ہے:

"وجاز اجارة الماشطة لتزين العروس ان ذكرالعمل والمدة."

(باب اجازة الفاسده، ج:6، ص:63، ط:سعيد)

فقط والله اعلم 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144509100412
تاریخ14-03-2024

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں