بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

کیا رمضان کے مہینے میں حائضہ عورتیں روزے داروں کی مشابہت اختیار کریں گی؟

سوال

خواتین کو رمضان میں جب ماہواری شروع ہوجاتی ہے، تو ان کو روزہ تو نہیں رکھنا ہوتا، لیکن کیا وہ پورا دن روزے داروں کی طرح گزاریں گی؟ یعنی روزے داروں کی طرح سحری کرلی پھر پورا دن روزے داروں کی طرح گزارا، یا اُن کو اجازت ہوتی ہے کہ وہ کھاپی سکتی ہیں؟

جواب

عورت کو اگر ماہِ رمضان میں ماہواری شروع ہوجائے، تو ایسی عورت کے لیے اپنی ماہواری کے دنوں میں کھانا پینا جائز ہوتا  ہے، اور اس کا روزے داروں کی مشابہت اختیار کرنا درست نہیں ہے،  البتہ اُس کو چاہیے کہ دوسروں کے سامنے نہ کھائے؛  اس لیے کہ ایک  تو اس میں رمضان کا احترام ہے، دوسرے یہ حیا کا تقاضا بھی ہے، ورنہ سب کے سامنے کھانے پینے سے حالتِ ناپاکی کا اظہار و اعلان ہوگا۔

البتہ  اگر حائضہ عورت دن کا کچھ حصہ گزرنے کے بعد پاک ہوگئی،  تو اب دن کے بقیہ حصہ میں کھانے پینے سے رُکا رہنا چاہیے۔

فتاویٰ عالمگیریہ میں ہے:

"وإذا حاضت المرأة ونفست ‌أفطرت كذا في الهداية."

(كتاب الصوم، الباب الخامس في الأعذار التي تبيح الإفطار، ١/ ٢٠٧، ط: دارالفكر)

حاشیۃ الطحطاوی علی مراقی الفلاح  میں ہے:

"يجب على الصحيح وقيل يستحب (الإمساك بقية اليوم على من فسد صومه) ولو بعذر ثم زال (وعلى حائض ونفساء طهرتا بعد طلوع الفجر).

وقال عليه في الحاشية: (قوله: وعلى حائض ونفساء طهرتا) وأما في حالة تحقق الحيض والنفاس فيحرم الإمساك لأن الصوم منهما حرام ‌والتشبه ‌بالحرام حرام."

(كتاب الصوم، ‌‌باب ما يفسد الصوم ويوجب القضاء، فصل، ص: ٦٧٨، ط: دارالكتب العلمية)

فقط والله أعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144509100382
تاریخ14-03-2024

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں