بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

11 جُمادى الأولى 1448ھ 23 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

بریرہ نام رکھنے کا حکم

سوال

کیا بریرہ نام رکھنا صحیح ہے؟

جواب

’’بریرہ‘‘  نام ’’بر‘‘ سے نکلا ہے، جس کے معانی نیکی، طاعت،سچ اوراحسان کے آتے ہیں، اس لحاظ سے بریرہ کا معنی : نیک، مطیع، سچی  اور محسن عورت کرسکتے ہیں۔

یہ ایک  صحابیہ کا نام ہے اور یہ نام رکھنا درست ہے۔

المصباح المنير في غريب الشرح الكبير  میں ہے:

"فيقال: أبر الله تعالى الحج وأبررت القول واليمين والمبرة، مثل: البر والبرير مثال كريم ثمر الأراك إذا اشتد وصلب الواحدة بريرة وبها سميت المرأة".

(ج: 1، ص: 43، ط: المكتبة العلمية - بيروت)

فقط وللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144509100301
تاریخ13-03-2024

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں