بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

8 جُمادى الأولى 1448ھ 20 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

تراویح کی جماعت میں قضاء نماز کی نیت کا حکم

سوال

کیا نماز "تراویح" کی جماعت میں قضا نماز کی نیت کی جاسکتی ہے؟

جواب

واضح رہے کہ تراویح کی نماز سنت مؤکدہ ہے اور نفل کے حکم میں ہے اور نفل کی جماعت میں فرض نمازخواہ ادا ہو یا قضاء ادا نہیں کی جا سکتی، بلکہ  جماعت کے ساتھ نماز کی قضاء کے لیے شرط ہے  کہ امام اور مقتدی کی نماز  ایک  ہو، لہذا صورت مسئولہ میں سائل کے لیے تراویح کی جماعت میں قضاء نماز کی نیت کرنے کی گنجائش نہیں ہے اور نہ ہی قضاء نماز ذمہ سے ساقط ہو گی۔

بدائع الصنائع میں ہے:

"ويجوز التراويح قاعدا من غير عذر لأنه تطوع إلا أنه لا يستحب".

(کتاب الصلاة، فصل في قدر صلاة التراويح، ج:1، ص390، ط: دار الكتب العلمية)

فتاوی شامی میں ہے:

"(و) لا (مفترض بمتنفل وبمفترض فرضا آخر) لأن اتحاد الصلاتين شرط عندنا".

"قوله وبمفترض فرضا آخر) سواء تغاير الفرضان اسما أو صفة كمصلي ظهر أمس بمصلي ظهر اليوم؛ بخلاف ما إذا فاتتهم صلاة واحدة من يوم واحد فإنه يجوز؛ وكذا لو صلى ركعتين من العصر فغربت الشمس فاقتدى به آخر في الأخريين لأن الصلاة واحدة وإن كان هذا قضاء للمقتدي جوهرة".

(كتاب الصلاة، باب الإمامة، ج:1، ص:579، ط: ايچ ايم سعيد)

فقط والله اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144509100290
تاریخ13-03-2024

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں