بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

3 جُمادى الأولى 1448ھ 15 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

استعمال کے سونے پر زکوٰۃ کا حکم

سوال

میری بیگم کے پاس گیارہ تولے سونے کے زیورات ہیں،  تاہم وہ اس کے اپنے استعمال میں ہیں۔ کیا اس پر زکوٰۃ لاگو ہو گی ؟ ہمیں کسی نے بتایا کہ استعمال  کیے جانے والے سونے پر زکوٰۃ نہیں دی جاتی!

جواب

واضح  رہے کہ سونا چاندی زیورات کی  شکل میں ہوں  یا  کسی اور  شکل میں، استعمال میں ہوں  یا استعمال میں نہ ہوں بہر صورت  اس کی زکوٰۃ ادا کرنا لازم ہے بشرطیکہ وہ نصاب تک پہنچتے ہوں، لہذا صورت مسئولہ میں سائلہ کی اہلیہ پر گیارہ تولے سونے کی زکوٰۃ ادا کرنا لازم ہے۔

فتاوی شامی میں ہے:

"(واللازم في مضروب كل) منهما (ومعموله ولو تبرا أو حليا مطلقا) مباح الاستعمال أو لا ولو للتجمل والنفقة؛ لأنهما خلقا أثمانا فيزكيهما كيف كانا".

(کتاب الزکاة، باب زكاة المال، ج:2، ص:298، ط:سعيد)

فقط واللہ اعلم 

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144509100289
تاریخ13-03-2024

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں