بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيم

13 جُمادى الأولى 1448ھ 25 اکتوبر 2026 ء

دارالافتاء

 

روزہ کی حالت میں نکسیر پھوٹنے کا حکم

سوال

کیا روزہ کی حالت میں ناک سے خون(نکسیر) آنے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے؟

جواب

روزے کی حالت میں نکسیر پھوٹنے سے روزہ فاسد نہیں ہوتا ،( اگرچہ  تھوک میں خون کا اثر بھی ظاہر ہو جائے) بشرطیکہ نکسیر کا خون  حلق سے نیچے نہ گیا ہو، اگر نکسیر کا خون حلق میں پہنچ کر پیٹ کی طرف نیچے اتر  گیا تو روزہ فاسد ہو جائے گا، قضا لازم ہوگی، کفارہ نہیں۔ 

البحر الرائق  (2/ 294):

"(قوله: أو دخل حلقه غبار أو ذباب، وهو ذاكر لصومه) يعني لايفطر؛ لأن الذباب لايستطاع الامتناع عنه فشابه الدخان والغبار؛ لدخولهما من الأنف إذا طبق الفم قيد بما ذكر؛ لأنه لو وصل لحلقه دموعه أو عرقه أو دم رعافه أو مطر أو ثلج فسد صومه لتيسر طبق الفم وفتحه أحياناً مع الاحتراز عن الدخول، وإن ابتلعه متعمداً ألزمته الكفارة، واعتبار الوصول إلى الحلق في الدمع ونحوه مذكور في فتاوى قاضي خان، وهو أولى مما في الخزانة من تقييد الفساد بوجدان الملوحة في الأكثر من قطرتين ونفي الفساد في القطرة والقطرتين؛ لأن القطرة يجد ملوحتها فلا معول عليه".

مجمع الأنهر في شرح ملتقى الأبحر (1/ 245):

"وفي الخانية: لو دخل دمعه أو عرق جبهته أو دم رعافه حلقه فسد صومه".

فقط واللہ اعلم

دارالافتاء — جامعہ علوم اسلامیہ علامہ محمد یوسف بنوری ٹاؤن


فتویٰ نمبر 144509100251
تاریخ13-03-2024

تلاش

سوال پوچھیں

اگر آپ کا مطلوبہ سوال موجود نہیں تو اپنا سوال پوچھنے کے لیے نیچے کلک کریں، سوال بھیجنے کے بعد جواب کا انتظار کریں۔ سوالات کی کثرت کی وجہ سے کبھی جواب دینے میں پندرہ بیس دن یا اس سے زائد وقت بھی لگ جاتا ہے۔

سوال پوچھیں